Monday, 9 June 2014

RENTED PRESMISES ORDINANCE

قانونِ کرایہ داری  9 200

میاں محمد اشرف عاصمی   ایڈووکیٹ ہائی کورٹ

قانونِ کرایہ داری کے تحت وطن عزیز میں جو ظلم روا رکھا جاتا رہا ہے اس کی مثال ایسے ہی ہے کہ محرم کو مجرم بنا دیا جاتا رہا ہے موجودہ قانون کرایہ دار 2009 کے تحت Premises کو خالی کروانے کے لیے مالک کو بہت ہی بہتر انداز میں سہولت فراہم کی گئی ہے کہ اب وہ وقت دور نہیں جب کرائے دار مالک کا استحصال کرکے عمر بھر کے لیے اُسکو مالی اور ذہنی پریشانی کا
سبب بنتے تھے کا خاتمہ ہو سکے گا۔
سیکشن 5 Rented Punjab Premsises Act 2009)- ( کے تحت کوئی بھی لینڈ لارڈ بغیر معائدہ کیے کرائے دار کو جگہ کرائے پر نہ دے گا۔ جائیداد کا مالک معائدہ کو رینٹ رجسٹرار کے سامنے پیش کرئے گا ۔اور رینٹ رجسٹرار اپنے رجسٹر میں کرایہ داری کی تمام شرائط لکھے گا اور اُس معائدے پر اپنی مہر ثبت کرئے گااور اصل معائدے کی کاپی لینڈلارڈ کو دے دے گا۔کرایہ داری کے معائدے کے بعد ایک قسم کا یہ ثبوت بن جاتا ہے کہ مالک اور کرایہ دار کا رشتہ معرض وجود میں آگیا ہے۔
این ایل آر 2004 سول 702 کے مطابق سول پٹیشن نمبر1704-L آف 2002 جو کہ 20-2-2004 کو ڈسمس ہوئی یہ اپیل ججمینٹ آرڈر بتاریخ 19-4-2002 تھی جو لاہور ہائی کورٹ لاہور نے رٹ پٹیشن نمبر 4407/1996 میں پاس کی تھی کیس کا عنون تھا برکت مسیح بنام منظور احمد متوفی بذریعہ ایل آر ایس اس کیس میں برکت مسیح پٹیشنر تھا اور منظور احمد مرحوم بذریعہ ایل آر ایس ریسپاونڈنٹ تھا کیس کی سماعت مسٹر جسٹس افتخار محمد چوہدری اور مسٹر جسٹس میاں محمد اجمل نے کی (a) کرایہ داری آرڈینس of 1959 VI کے سیکشن 13 کے مطابق مالک اور کرائے دار کے تعلق کو بیان کیا گیا ہے کہ کرایہ دار کی طرف سے مالک کے خلاف سول کیس کا التواء فیصلہ ہونے تک مکان کو کرائے دار سے خالی کراونے سے نہیں روکتا۔(b) سیکشن 13 کے مطابق یہ قانون کا ایک طے شدہ اصول ہے کہ اگر کرئے دار اپنے مالک کے ملکیتی حقوق ماننے سے انکاری ہے تو پھر کرائے دار اس امر کو ہر حال میں یقینی بنائے کہ اُس کے قبضے میں جو جگہ ہے اُس کو مالک کے حوالے کرئے اور پھر ملیکت کے حقوق کے لیے کیس لڑے اور اگر مقدمے کا فیصلہ اُس کے حق میں ہو جاتا ہے تو پھر اُس مقدمے کے فیصلے پر اُسکے تمام تر حالات و واقعات کے مطابق عمل درآمد کروایا جاسکے گا۔ مذکورہ کیس کی سماعت 20-2-2004 کو ہوئی جناب جسٹس افتخار محمد چوہدری نے اپنے حکم میں لکھا کہ اِس پٹیشن میں جو نکتہ اُٹھایا گیا ہے وہ یہ ہے کہ 19 اپریل 2002کو ہائی کورٹ نے برکت مسیح کی رٹ پٹیشن کو ڈسمس کردیا تھا۔ (a) اس کیس کے مختصر طور پر حقائق یہ ہیں کہ ریسپاونڈنٹ نے ایک درخواست رینٹ کنٹرولر صاحب لاہورکی خدمت میں1986-87 میں گزار کی۔کہ پٹیشنر کو مکان نمبر 16 گلی نمبر 31 کینال پارک لاہور جو کہ خسر ہ نمبر 1650 پر تعمیر شدہ ہے کے ایک کمرے سے Eject کیا جائے۔ پٹیشنر نے ایجیکٹمینٹ کی کروائی کو کونٹیسٹ کیا جس میں خاص طور پر اس نکتے پر زور دیا گیا کہ دونوں پارٹیوں کے درمیاں مالک اور کرائے دار کا تعلق نہ ہے ۔ رینٹ کنٹرولر صاحب نے مندرجہ ذیل Issue فریم کیے۔ (a)کیا دونوں پارٹیوں کے درمیان مالک اورکرائے دار کا تعلق وجود رکھتا ہے؟ Relief (b) کیا بنتا ہے؟دونوں پارٹیوں نے اپنے اپنے موقف کی حمایت میں شواہد پیش کیے اور 25 جنوری 1992 کو رینٹ کنٹرولر صاحب نے یہ Judgement دے دی کہ پارٹیوں کے درمیان مالک اور کرائے دار کا تعلق موجود ہے۔ پس پٹیشنر کو حکم دیا گیا کہ وہ Premises کو خالی کردے ۔ ایڈیشنل سیش جج صاحب لاہور کے پاس رینٹ کنٹرولر صاحب کے حکم کے خلاف اپیل کی گئی جو کہ18 دسمبر 1995 کو خارج کردی گئی۔ان دونوں احکامات کے خلاف پٹیشنر نے ہائی کورٹ جانے کی Remedy کو استعمال کیا اور آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 199 کے تحت اس کی Jurisdiction کو وجہ تسمیہ بنایا۔لیکن اِس میں بھی پٹیشنرکو کامیابی نہ ہوئی اور یہ پٹیشن بھی 19 مارچ 2002 کو خارج کردی گئی ۔بعدازاں پٹیشن Leave to Appeal کے خلاف دائر کی گئی ہے۔ (4) ریسپا ونڈ نٹ کونسل نے کہا کہ ریسپاونڈنٹ کی ملکیت والی پراپرٹی پر پٹیشنر قابض ہے۔ اور ریسپاونڈنٹ درحقیت اپنے مالک ہونے بناء پر یہ حق رکھتا ہے کہ وہ اِس پراپرٹی کو اپنے قبضہ میں لے۔ 5) ( اپیلیٹ کورٹ اور ہائی کورٹ میں مالک اور کرایہ دار کے تعلق کا سوال اُٹھایا گیا لیکن رینٹ کنٹرولر اُٹھایا گیا لیکن رینٹ کنٹرولر صاحب نے پراپرٹی خالی کروئے جانے کا حکم صادر فرمایا کیونکہ Evication Application میں پراپرٹی کا قبضہ دلوانے کی درخواست کی گئی تھی۔ (6) پٹیشنر کے وکیل صاحب نے تب یہ کہا کہ پارٹیوں کے درمیان Landlord اورTenant کا تعلق وجود میں نہ ہے تاہم پٹیشنر نے پارٹیوں کے حق کا تعین کرنے کے لیے ایک مقدمہ دائر بھی کر رکھا تھا اُس کا استدلال تھا کہ اِس مقدمے کے فیصلے تک Ejectment نہیں ہوسکتی یہ قانون کا طے شدہ اصول ہے کہ اگر کراے دار جو ہے وہ Landlord کے مالکانہ حقوق سے انکاری ہے تو پھر سب سے پہلے متعلقہ پراپڑٹی کا قبضہ مالک کو دے اور اگر وہ عدالت میں اپنی ملکیت ثابت کرکے فیصلہ اپنے حق میں کروالیت ہے تو پھر وہ قانون کے مطابق عملداری عمل میں آئے گی(7) پٹیشنر کے کونسل نے اور کسی نکتے پر بحث نہیں کی۔ بیان کردہ وجوہات کی بناء پر ہم اِس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ پٹیشن میرٹ پر پورا نہیں اُترتی اس لیے اِس کو خارج کیا جاتا ہے اور Leave Decline کی جاتی ہے۔اس کیس میں اجازت دئیے جانے کو Refuseکردیا ۔ 2010 ,CLC,610 کے مطابق ٹرائل کورٹ کی یہ قانونی ذمہ داری ہے کہ وہ مقدمہ کے حوالے سے اپنے ذہن کو استعمال کریں اگر کوئی مقدمہ قانون کی کسی شق سے متصادم ہے اور قابلِ سماعت نہیں ہے تو ایسے کیس کو فوراً ختم کردینا چاہیے اور لمبے عرصہ کا ٹرائل کرنے کی اجازت نہیں دینی چاہیے کیونکہ اِس طرح عدالتوں میں مقدمات کی بھرمار ہوتی چلی جاتی ہے اور عدالتوں پر غیرضروری بوجھ پڑ جاتا ہے۔ اگر صرف ایک قانونی نکتہ مقدمے میں حل طلب ہے تو جج صاحبان اُس کو حل کرکے آغاز میں ہی فیصلہ صادر فرمادیں۔اِس سے فریقین کا قیمتی وقت اور رقم دونوں کی بچت ہوگی۔اسی طرح ہائی کورٹ نے اپنے ایک فیصلے میں قرار دیا ہے کہ جب رینٹ رجسٹرار کسی بھی رینٹ کے معائدہ کو رجسٹرڈ کرتے
وقت کرایہ دار کو بھی نوٹس کرئے تاکہ کرایہ دار اطمینان کرلے کہ معائدہ کی تمام دفعات وہی ہیں جس پر فریقین متفق ہیں۔ کیونکہ کرایہ دار پر متعلقہ پراپرٹی کے حوالے سے Liabilities تو ہے تو پھر کرایہ دار کو رینٹ ایگریمینٹ کے حوالے سے مکمل آگاہی ہونی چاہیے۔ اگر رینٹ رجسٹرار نے کرایہ دار کو ایگریمینٹ رجسٹرد کرنے سے پہلے نو ٹس جاری نہ کیے ہوں تو ایسا معائدہ valid نہ ہوگا۔ اس طرح سیکشن 9 میں یہ درج ہے کہ اگر معائدہ رجسٹرڈ نہ ہو تو پھر مالک جائیداد ایک سال تک بننے والے کرایہ کی رقم کے اوپر دس فی صد رقم بطور Fine عدالت میں جمع کراوتا ہے اُس کے بعد جائیداد کی Ejectment کروانے کے حوالے سے پراسیس شروع ہو جاتا ہے۔ اگر ہم پاکستان کے سماجی مسائل کی طرف نظر دوڑائیں تو یہ با ت روزِ روشن کی طرح عیا ں ہو جاتی ہے کہ ہمارے معاشرے میں مقدمہ بازی کو اکثر لوگ اتنا طویل کر دیتے ہیں کہ انصاف کے لیے اگر دادا نے کیس کیا ہوتا ہے تو انصاف جا کر کہیں پوتے کی اولاد کو ملتا ہے۔ اس لیے کہا جاسکتا ہے کہ اگر تاخیر سے انصاف ملے تو ایسے انصاف کا کیا فائدہ۔زمین وغیرہ کے جھگڑے ہمارئے معاشرئے میں نسل در نسل صدیوں تک چلتے ہیں جن لوگوں کا حق ہوتا اُن کو نہیں ملتا اور جنہوں نے حق دینا ہوتا ہے وہ بھی سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر مُلکِ عدم روانہ ہو جاتے ہیں انصاف ہے کہ عام سائل کی پہنچ سے دور اور اشرافیہ کی دسترس میں ہوتا ہے۔ انصاف کے ایوانوں میں انصاف ہی ناپید ہوتا ہے۔ ہاں اشرافیہ انصاف کو بھی ایک Commodity سمجھتے ہوئے اِس کی خریدار بن جاتی ہے۔ پاکستان میں تشدد ، لوٹ مار، عدمِ برداشت یہ سب کیا دھرا انصاف کے میسر نہ آنے کی وجہ سے ہے۔اس لیے جیسے ہی کسان زمیندار کی فصل کاشت ہونے کے قریب ہوتی ہے تو وہ زمیندار یا کسان مقدمہ بازی کے لیے پہلے سے ہی تیار ہوتا ہے۔تعلیم کی کمی۔ قناعت کا نہ ہونا یہ سب کچھ انصاف کی فراہمی نہ ہونے کی وجہ سے ہے۔   
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مضمون نگار میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ گزشتہ دو دہائیوں سے سماجی قانونی معاشی موضوعات پر لکھتے ہیں قانون و معاشیات کے اُستاد ہیں ہائی کورٹ میں وکالت کرتے ہیں برصغیر کی عظیم روحانی شخصیت حضرت میاں وڈا صاحبؒ کے خانوادے سے تعلق ہے۔آپ ایم ایس سی معاشیات، ایم ایس سی ایجوکیشن، ایم بی اے فنانس،ایل ایل بی،ایل ایل ایم, اے سی ایم اے (P)I- ڈپلومہ ان اسلامک لاء ، ڈپلومہ ان انفارمیشن ٹیکنالوجی،ڈپلومہ ان بینکنگ کے حامل ہیں۔اور Txdla آف امریکہ کے ایسوسی ایٹ ممبر ہیں۔

Saturday, 26 April 2014

ROLE OF LAHORE BAR IN HUMAN RIGHTS ACTIVITIES BY MIAN ASHRAF ASMI ADVOCATE CHAIRMAN HUMAN RIGHTS COMMITTEE LAHORE BAR2014-15


انسانی حقوق کی صورتحال کے حوالے سے لاہور بار ایسوسی ایشن کی انسانی حقوق کی کمیٹی کے چےئرمین میاں اشرف عاصمی ایڈووکیٹ ہائی کورٹ کا تجزیہ

انسانی حقو ق کمیٹی لاہور بار ایک ایسا فورم ہے کہ اس پلیٹ فارم سے ظلم تشدد اور انسانی حقوق کی خلاٖف ورزیوں کے خلاف ایک توانا آواز اٹھائی جا سکتی ہے۔ یوں تو وکلا کا پروفیشن ہی ایسا ہے کہ ان کو معاشی معاشرتی عمرانی ،نفسیاتی قانونی و دیگر زندگی کے شعبہ جات کے متعلق بھرپور آگہی واداک ہوتا ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے ۔قانون کے شعبہ سے منسلک افراد کس طرح اپنے وجود سے معاشرے کو فا ئدہ پہنچا سکتے ہیں موجودہ حالات میں مادیت نے ہر رشتے سے تعلق کو گہنا کر رکھ دیا ۔ہر لمحہ ہر ساعت معاشی ضرورتوں کا رونا رونے نے معاشرے سے امن سکون چھین لیا ہے ۔صبح صادق سے لے کر رات گئے تک معاشی مجبوریوں کو اپنے حواس پر سوار کرکے اپنے آپ کو ہر لمحے ما یوس اور دکھ کا شکا ر کررکھا ہے دکھی اور مایوس انسانیت نے اپنے لئے خود سا ختہ اتنے دُکھ پال رکھے ہیں کہ دو وقت کی روٹی کو ترسنے والے کوتو خالق پر بھروسہ ہے لیکن جن کو روٹی میسر ہے وہ دوسروں سے نوالے چھین کر اپنے پیٹ کی دوزخ کی آگ کو بجھانے کی لا حاصل سعی میں مصروف ہیں 
راقم کے خیا ل میں انسانی حقوق کے تنظیموں کو سب سے پہلے تو یہ امر پیش نظر رکھنا چاہیے کہ انسانی حقوق کے لئے کا م کرنے والے کا رکنا ن خود کو ہو س دُنیا وی لالچ سے دور رکھیں ۔جب تک اُن کے اپنے دلوں میں خوف خداہوگااور دُنیا وی آسائشات کی اہمیت نہ ہو گی تب ہی وہ معاشرے کو کچھ دے سکتے ہیں۔ا پاکستان میں انسانی حقوق کے حوالے سے کا م کرنے کے جنا ب انصاربرنی بہت بڑا نام ہے جوکہ پوری دُنیا میں اِس شعبے میں اپنی مثال آپ ہیں دیگر کئی لوگ اور تنظمیں بھی کا م کررہی ہیں لیکن اکثرکا کا م صرف میڈیا تک اپنی نمائش تک محدود ہے یا پھر جن لوگوں سے یا جن ملکوں سے یہ افراد فنڈز لیتے ہے اِن کے مِفادات کا تحفظ کرنا ہے۔دُنیا آج تک ایسی مثال دینے سے قاصر ہے کہ نبی پاک ﷺ سے بڑھ کر انسانی حقوق کا علمبرادر اور کوئی نہیں ۔بنی پاک ﷺ نے حقوق خواتین اقلیتوں کے حقوق کے حوالے سے جو مثالیں قائم کیں وہ پوری انسانیت کا سرفخر سے بلند کیے ہوئے ہیں انسانی حقوق تو بہت بڑی بات ہے ،نبی پاک ﷺ نے تو جانوروں کے تحفظ کے حوالے سے بھی ہما ری رہنمائی کے لئے بہت کچھ کیا ہے۔موجودہ ادوار میں امریکہ یورپ برطانیہ میں انسانی حقوق کی تنظیمیں بہت فعال ہیں ۔لیکن اُن کا دائرہ کا ر صرف اپنے ملکوں تک محدود ہے یہ ممالک تومعاشی سماجی حوالے سے پہلے ہی بہت ترقی یا فتہ ہیں وہا ں تو اِن تنظیموں کا کام بہت آسان اور یہ تنظیمیں مسلسل آگا ہی مہم کے ذریعے انسانی شعور کی بیداری کا فریضہ سرانجام دیتی ہیں ۔ان ترقی یافتہ ممالک میں معاشی آسودگی کی وجہ سے قوانین پر عمل پیرا ہونا اور عزت وحرمت کے لیے کام کرنا نسبتاً آسان ہے۔سویڈن برطانیہ ،ناروئے امریکہ جرمنی یورپ کے دیگر ممالک میں انسانی حقوق کے علمبردار مرد وخواتین بہت زیادہ فعال ہیں۔ پاکستان میں انصار برنی کے علاو ہ عابد منٹو ایڈووکیٹ ،فاروق طارق،عاصمہ جہانگیر،جمی انجینئر، حنا جیلانی، طاہرہ مظہر علی خان، ایس ایم ظفر،آئی ائے رحمان بہت ہی قابل احترام نام ہیں جن لوگوں نے اپنی زندگیوں کو معاشرئے میں رواداری امن برداشت کے فروغ کے لیے بہت کوششیں کی ہیں۔فیض احمد فیض جیسے عظیم دانشور بھی اِسی راہ کے مسافر تھے۔ اگر ہم انسانی حقوق کی پامالی کی بات کرتے ہیں تو یہ بات انتہائی افسوس ناک ہے کہ ترقی پذیر ممالک یا انتہائی پسماندہ ممالک غربت کی ایسی چکی میں پس رہے ہیں کہ ان ممالک میں بس غلام ابنِ غلام ہی پیدا ہورہے ہیں غربت کے منحوس چکر نے ان ممالک کو اِس طرح اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے کہ پاکستان جیسے ملک میں جو کہ ایک ایٹمی ملک ہے جس کے پاس سمندر ہے پہار ہیں چاروں موسم ہیں ہیں صرف چند ہزار لوگوں نے اُنیس کروڑ انسانوں کو یر غمال بنا رکھا ہے ساٹھ فی صد سے زیادہ لوگ خِط غربت سے انتہائی نچلی سطح پر زندگی بسر کرہے ہیں بے روزگاری، مخفی بے روز گاری نے عوام کا بُرا حال کر رکھا ہے ان حالات میں پھر انسانی حقوق کی حالت کیسے بہتر ہوسکتی ہے جب غریب
عوام کو بھیڑوں کے ریوڑ کی طرح ہانکا جارہا ہے بنگلہ دیش بھارت برما میں بھی ایسے ہی حالات ہیں۔ جس طرح کسی دوشیزہ کی خوبصورتی اُسکے لیے وبالِ جان بن جاتی ہے اِسی طرح پاکستان کی سٹرٹیجک جغرافیائی حالت نے اُس کے وجود کو ہلا کر رکھ دیا ہے امریکہ ، بھارت اسرائیل ہماری جان کے دُشمن بنے ہوئے ہیں اوپر سے ستم ظریفی یہ بھی کہ ہمارے ماضی کے حکمرانوں نے بھی ہمیشہ امریکی غلامی کے طوق کو اپنے گلے کا ہار بنائے رکھنے کو اپنے لیے فخر جانا ہے ۔ پاکستانی معاشرے میں علم کے نور کی کمی نے وڈیروں ، زمینداروں ، سرمایہ داروں کو عوام دُشمنی کے حوالے کیے رکھا ہے ۔ پاکستانی قوم کی بنیادی مشکلات میں پولیس کا نظام اور پٹواری کا ظلم شامل ہے۔ راقم کو جب 22A,22B سی آر پی سی کے تحت سیشن کورٹ میں پیش ہونا پڑتا ہے تو سیشن جج صاحبان کے احکامات کی حکم عدولی پولیس افسران کا خاصہ ہے۔ سیشن جج صاحبان بے بسی کی تصویر بنے ہوتے ہیں۔
پولیس کے نظام میں بہت بڑی خرابی سیاسی مداخلت کا ہونا ہے۔ پولیس کا نظام ہمارے معاشرے میں انصاف کی بالا دستی کے راہ میں بہت بڑی رکاوٹ ہے۔پو لیس کو دباؤ میں رکھنے کے لیے اتنے گروہ سرگرمِِِِِِِِ عمل ہیں کہ پولیس چاہے بھی تو اِن ذ مہ داریوں کو ادا کرنے سے قاصر ہے ۔جب پولیس نے اپنے فرا ئض کی ادائیگی پریشر میں کرنی ہے اور جب ہر ایم این اے اور ایم پی اے تھانیدار کو اپنی انا کے اشاروں پر نچاتا ہے تو امن و امان کیسے قائم رہ سکتا ہے۔ رب پاک کو حاضر و نا ضر جان کر اگر ہم خود سے یہ سوال کریں کہ کیا کسی شریف النفس انسان کا موجودہ دور میں اسمبلی کا ممبر بننا ممکن ہے تو اِسکا جواب منفی میں ہونے کے ساتھ ساتھ ہے یہ بھی ہوگا کہ شریف آدمی نہ تو الیکشن لڑ سکتا ہے اور نہ ہی جیت سکتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں تھانے اور کچہری کی سیاست ہوتی ہے۔ کسی کو گرفتار کروادیا کسی کو مروادیا اور کسی کو علاقے سے ہی غائب کروادیاجنگل کا قانون توپھر بھی کو معانی رکھتا ہے جہاں درندے ، پرندے ہزاروں سالوں سے بس رہے ہیں۔ ہمارری سوسائٹی میں طاقت کا استعمال
،اقرباپروری اپنی مثال آپ ہیں۔ یہاں عوامی نمائندے کیسے ہوں گے ؟ جیسا ماحول بن چکا ہے ادھر تو شرافت، دیانت امانت سب کچھ منافقت میں ڈھل چکا ہے۔98% طبقے کو % 2 نے یرغمال بنا رکھا ہے۔ اِن حا لات میں پولیس امن و امان کیسے قائم رکھے جب عوامی نمائندے وزیر ،مشیر سرمایہ دار وڈیرے پولیس کو اپنی من مانی کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ گزشتہ سندھ اسمبلی کے ایک ضمنی الیکشن میں حکومتی پارٹی کی ایک خاتون امیدوار نے پولیس آفیسر کے سامنے خاتون پریزائیڈنگ آفیسر کو تھپڑ مارے اور ڈی ایس پی باادب ہو کر سارا تماشا دیکھتا رہا۔ یہ ہے وہ پولیس جس نے عوام کو غنڈوں کی چیرہ دستیوں اور ظلم سے بچانا ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے معاشرے میں میڈیا کے فعال کردار نے کافی حد تک آگاہی دی ہے۔ لیکن حز بِ اقتدار ہو یا حزب مخالف، اقتدار میں رہنے کے لیے منشیات فروشوں اور قبضہ گروپوں کی سرپرستی کرتے ہیں اور یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ کیونکہ وہ بھاری رقوم خرچ کرکے آئے ہیں اس لیے ہر طریقے سے رقم کماتے ہیں۔ اِن لوگوں نے باقاعدہ غنڈے پال رکھے ہوئے ہیں۔ موجودہ حالات میں وکلاء، سول سوسائٹی اور عدلیہ ہی امید کی کرن ہیں کہ شائد ہمارہ معاشرہ کبھی گدِھوں سے نجات حاصل کرسکے۔ تھانے بکتے ہیں ماہانہ بنیادوں پر رقوم اکھٹی ہوتی ہیں۔کتابوں میں لکھے اخلاقیات اور مذہب کے امن وآشتی کے اسباق کہیں دور اندھیرے میں دُبکے ہوئے ہیں۔۔ تعلیم ،امن ،صحت، روزگار سماجی انصاف معاشرے کو امن وآشتی کا گہوارہ بنا سکتے ہیں۔نبی پاکﷺ کا فرمانِ عالیٰ شان ہے کہ وہ شخص ہم میں سے نہیں جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ نہیں۔قصور پولیس کا نہیں بلکہ اِس کو کرپٹ کرنے والوں کا ہے جو پولیس کو دباؤمیں رکھ کر اُس سے ہرناجائز کام کرواتے ہیں جس سے یہ احساس شدت سے محسوس ہوتا ہے کہ ہم نے آزادی جیسی نعمت کی قدر نہیں کی اور دورِ غلامی کی لعنت سے کوئی سبق نہیں سیکھاہمارے رویے ایک قوم ہونے کے ناطے اِس لیے بہتر نہیں ہو پائے کہ ہمارے حکمران کیونکہ عوام کے ساتھ مخلص نہیں ہیں
اور وہ خود کو قانون کے دائرے میں رکھنے کو اپنی توہین سمجھتے ہیں۔قانون کی بلادستی کے لیے سب سے زریں اصول یہ ہے کہ قانون سب کے لیے ایک ہو۔ جو قومیں امیروں اور غریبوں کے درمیان انصاف کی فراہمی کے حوالے سے تفریق کرتی ہیں وہ تباہ برباد ہوجاتی ہیں پاکستانی سوسائٹی میں امن ومان اور قانون کی عملداری اُس وقت ممکن ہے جب حکمران اور عوام ایک ہی صف میں کھڑے ہوں۔ہمارئے معاشرئے میں قانون کی حاکمیت نہ ہونے کہ وجہ سے معاشرہ بُری طرح ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔عوام ظلم برداشت کر کر کے ادھ مُو ہو چکی ہے سب سے پہلے تو وہ افراد انسانی حقوق کی پامالی کرنا بند کریں جن پر یہ ذمہ داری ہے کہ اُن پرانسانی حقوق کی بالا دستی کے لیے کام کرنے کی ذمہ داری ہے۔ جیلوں کی صورت حال، تھانہ کلچر، گھروں میں کام کرنے والے بچے بورھے خواتین سب لوگ تو انسانی حقوق کی پامالی کا شکار ہیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مضمون نگار میاں اشرف عاصمی ایڈووکیٹ ہائی کورٹ لاہور بار ایسوسی ایشن کی انسانی حقوق کی کمیٹی کے چےئرمین ہیں او گزشتہ دو دہا ئیوں سے سماجی معاشی عمرانی و قانونی موضوعا ت پر لکھتے ہیں۔